4 اگست 2013 - 19:30
سعودع عرب میں تیل کے باوجود غربت و افلاس

سعودی عرب میں تیل کی بے پناہ آمدنی کےباوجود دس ملین افراد کو اتنی تنخواہ نہیں ملتی جس سے زندگي کا خرچ مکمل ہوسکے۔

ابنا: سعودی عرب کے صحافی اور دانشور توفیق السیف نے العالم سے گفتگو میں کہا ہے کہ سعودی عرب کی وزارت سماجی امور کے مطابق ارض حجاز پر تین ملین غریب افراد کو سرکاری بھتہ ملتا ہے۔ انہوں نے کہا آل سعود کی حکومت کو ان دس ملین افراد کے مسائل حل کرنے کےلئے ان کی تنخواہوں میں اضافہ کرنا چاہیے۔ واضح رہے سعودی عرب میں سماجی اور انسانی حقوق کارکنوں نے انٹرنیٹ پر تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے سعودی بادشاہ سے کہا ہےکہ سرکاری ملازموں اور ریٹائرڈ افراد کی تنخواہوں اور وظیفے میں اضافہ کریں اور طلباء کو دی جانے والی سہولتوں میں بھی اضافہ کریں۔ سعودی عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ جوانوں کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کئےجائيں اور قیمتوں پر کنٹرول رکھاجائے۔ ادھر سعودی عرب میں ملین مارچ تحریک نے اپنے دوسرے بیان میں ملک کے مختلف علاقوں میں مظاہروں کی تاریخ کا اعلان کیا ہے۔ العالم کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی ملین مارچ تحریک نے تمام شہریوں سے اپیل کی ہے مکمل طرح سے پرامن مظاہرے کریں۔ اس بیان میں آیا ہےکہ ہم مظاہرے کرکے سعودی عرب میں ظلم و استبداد، بیت المال کی چوری، انسانی اقدار کی پامالی، شہریوں کی گرفتاری، اور برسوں سے ان کو قید میں رکھے جانے پر احتجاج کریں گے اور یہ تاکید کریں گے کہ آل سعود کی حکومت تمام قیدیوں کو رہا کردے۔ سعودی عرب کی ملین مارچ تحریک نے درباری ملاوں کو خبردار کرتےہوئے کہا ہےکہ شہریوں کو حق ہے کہ وہ اپنی صدائے احتجاج حکام تک پہنچائے اورانہیں ان کی غلطیوں سے آگاہ کرے۔ اس بیان میں آیا ہے کہ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، ریاض ، جدہ، دمام، قصیم، تبوک، عرعر، جوف، الباحۃ اور عسیر و نجران میں مظاہرے ہونگے۔ واضح رہے سعودی عرب کے عوام کا مطالبہ ہے کہ انہیں بھی دوسرے ملکوں کی طرح شہری اور انسانی حقوق دئے جائيں۔

.......

/169